رافضی کے معنی

 رافضی کے معنی 

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے ایک صحابی نے آپ علیہ السلام کے سامنے اس بات کی شکایت کی کہ ہمیں لوگ اس ( رافضی) نام سے پکارتے ہیں 

تو آپ علیہ السلام نے تین مرتبہ فرمایا 

میں بھی رافضی ہوں

ابو بصیر روایت کرتے ہیں 

میں امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا 

میں آپ پر قربان 

دشمنوں نے ہمارا ایسا نام رکھ دیا ھے جس کے ذریعہ ھماری جان ومال کو حلال جانتے ہیں اور ہمیں آزارواذیت دیتے ہیں 

تو امام علیہ السلام نے سوال کیا وہ کیا نام ھے ؟

تومیں( ابو بصیر) نے کہا ،،رافضی،،

تو امام علیہ السلام نے فرمایا 

فرعونی لشکر کے 70 فوجی فرعون کی مخالفت کرتے ہوئے جناب موسیٰ علیہ السلام سے ملحق ہوگئے اور جناب موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں ان سے زیادہ کام کرنے والا کوئی نہیں تھا 

اور وہ پوری قوم میں جناب ہارون علیہ السلام سے سب سے زیادہ محبت کیا کرتے تھے چنانچہ 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو رافضی ( حکومت سے بغاوت کرنے والے) کا نام دیا 

اس موقع پر خداوند عالم نے جناب موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل کی کہ اس گروہ کا یہ نام توریت میں ثبت فرما دیں 

کیونکہ میں نے اس نام کی وجہ سے ان کو بخش دیا ،

پس اے ابو بصیر تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ نام خداوند عالم نے کو عطا کیا ھے 

المحاسن صفحہ 


عَنْهُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ رَجُلَيْنِ عَنْ أَبِي بَصِيرٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ ع جُعِلْتُ فِدَاكَ اسْمٌ سُمِّينَا بِهِ اسْتَحَلَّتْ بِهِ الْوُلَاةُ دِمَاءَنَا وَ أَمْوَالَنَا وَ عَذَابَنَا قَالَ وَ مَا هُوَ قَالَ الرَّافِضَةُ فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ ع إِنَّ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنْ عَسْكَرِ فِرْعَوْنَ رَفَضُوا فِرْعَوْنَ فَأَتَوْا مُوسَى ع فَلَمْ يَكُنْ فِي قَوْمِ مُوسَى ع أَحَدٌ أَشَدُّ اجْتِهَاداً وَ لَا أَشَدُّ حُبّاً لِهَارُونَ مِنْهُمْ فَسَمَّاهُمْ قَوْمُ مُوسَى الرَّافِضَةَ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى مُوسَى أَنْ ثَبِّتْ لَهُمْ هَذَا الِاسْمَ فِي التَّوْرَاةِ فَإِنِّي قَدْ نَحَلْتُهُمْ وَ ذَلِكَ اسْمٌ قَدْ نَحَلَكُمُوهُ اللَّهُ‌[3].


اسم الکتاب : المحاسن المؤلف : البرقي، ابو جعفر    الجزء : 1  صفحة : 157

Comments

Popular posts from this blog

قد رآی عینُ الله و ضرب یدُ الله

کیا عمران خان کی ماں قادیانی تھی ۔۔۔؟؟؟

اگر فاطمہ چوری کرتی تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جاتا؟ کیا یہ ممکن ہے؟ ("Agar (Meri Beti) Fatima (RaziAllahu Anha) Ne Bhi Chori Ki Hoti Tou Mai Uska Bhi Haath Kaat Leta”.)