کیا عمران خان کی ماں قادیانی تھی ۔۔۔؟؟؟
عمران نیازی کی قادیانیوں کے لئے نرم رویہ؛ کیا عمران خان کی ماں قادیانی تھی ۔۔۔؟؟؟ ایک تحقیقی رپورٹ
سوشل میڈیا پر عبداللہ احمد حسن نے ایک پوسٹ شائع کی۔ جس سے "کرتار پور کوریڈور" پر دکھائی جانے والی پھرتیوں پر جو شک کے بادل چھائے ہوئے تھے وہ تو گھٹا بن کر برسنے کو تیار بیٹھے ہیں۔عبداللہ احمد حسان نے ثابت کیا ہے کہ عمران خان کی والدہ "شوکت خانم" کے بارے میں علم نہیں کہ وہ مسلمان تھیں یا قادیانی لیکن حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کے نانا پر نانا سمیت ان کو پورا خاندان قادیانی تھا اور آج تک ہے۔
۔
.
شوکت خانم کا خاندان قادیانی ہے۔
.
کمشنر احمد حسن (عمران کے نانا) ولد منشی گوہر علی (عمران کے پر نانا) جالندھر والے کٹر قادیانی تھے، جنہوں نے جالندھر بابا خیل میں پہلی قادیانی عبادتگاہ کی بنیاد رکھی- منشی گوہر علی کا شمار مرزا غلام قادیانی کے 313 اصحاب میں سے پندھرویں نمبر پر ہے،
.
کمشنر احمد حسن کی اولاد بھی قادیانی تھی، جن میں سے ایک بیٹی شوکت خانم نے میانوالی کے اکرام اللہ خان نیازی سے شادی کی، (مرحوم کے بیٹے نے یہودی لڑکی سے ویاہ رچایا تھا)
۔
.
شوکت خانم کا خاندان قادیانی ہے۔
.
کمشنر احمد حسن (عمران کے نانا) ولد منشی گوہر علی (عمران کے پر نانا) جالندھر والے کٹر قادیانی تھے، جنہوں نے جالندھر بابا خیل میں پہلی قادیانی عبادتگاہ کی بنیاد رکھی- منشی گوہر علی کا شمار مرزا غلام قادیانی کے 313 اصحاب میں سے پندھرویں نمبر پر ہے،
.
کمشنر احمد حسن کی اولاد بھی قادیانی تھی، جن میں سے ایک بیٹی شوکت خانم نے میانوالی کے اکرام اللہ خان نیازی سے شادی کی، (مرحوم کے بیٹے نے یہودی لڑکی سے ویاہ رچایا تھا)
کیا شوکت خانم نے قادیانیت ترک کرکے اسلام قبول کرلیا تھا یا نہیں اس کا بہتر جواب تو وزیراعظم صاحب یا باقی خاندان والے دے سکتے ہیں- لیکن یہ اب بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ کمشنر احمد حسن کا باقی خاندان و بیٹیوں کا سسرال اب بھی قادیانی ہیں، جن میں سے قابل ذکر عمران خان کے خالہ زاد بھائی خالد برکی،
شاہد جاوید برکی تحریک انصاف کے سربراہ و سابقہ وزیر خزانہ بھٹو دور-
واجد احمد برکی تحریک انصاف کے فائنانس مشیر.....
شاہد جاوید برکی تحریک انصاف کے سربراہ و سابقہ وزیر خزانہ بھٹو دور-
واجد احمد برکی تحریک انصاف کے فائنانس مشیر.....
شوکت خانم کے والدین، بہن بھائی و دیگر خاندان کٹر قادیانی تھے،
کمشنر احمد حسن اور انکے والد منشی گوہر علی جالندھر میں گاڑھے گئے ہیں،
کمشنر احمد حسن اور انکے والد منشی گوہر علی جالندھر میں گاڑھے گئے ہیں،
تاہم بیٹی شوکت خانم کے بارے میں معلومات نہیں کہ کس مزہب پر تھی لیکن خان صاحب کا ننھیال اج بھی ایک کٹر قادیانی خاندان ہے اس میں کوئی شک نہیں.......
تحریک انصاف والے تحقیق خود کرسکتے ہیں تمام نام واضح لکھے گئے ہیں......
کمنٹ میں مرزا غلام قادیانی کی کتاب روخانی خزائن جلد 11 صفحہ 325 کا ایک سکرین شارٹ درج ہے غور سے پڑھے،
.
(یہاں پر اس کتاب کا منسلک عکس عبداللہ احمد حسان صاحب کا ہی پیش کردہ ہے اور میں اس کو جوں کا توں یہاں شائع کر رہا ہوں۔)
................
سوشل میڈیا کے ہی ایک ساتھی سلیم فاروقی کی مزید تحقیق کے مطابق "ویکی پیڈیا" پر عمران خان کے خاندان کے بارے میں ایک صفحہ ہے جس میں عمران خان کے ننہیال کے حوالے سے بھی یہ انکشاف موجود ہے کہ عمران خان کے نانا جس وقت جالندھر میں کمشنر تھے اس وقت مرزا غلام احمد قادیانی کے خدمت گذار تھے۔ تاآنکہ وہ تقسیم کی باعث پاکستان آنے پر مجبور ہوگئے۔ یہاں یہ بتانا ضروری محسوس کرتا ہوں کہ اگر عمران کی خاندانی معلومات پر مبنی اس صفحے کو ذرا گھنگالیں تو معلوم ہوگا کہ یہ صفحہ مئی 2014 میں ترتیب دیا گیا اور اس میں گاہے بگاہے تبدیلی بھی ہوتی رہی آخری تبدیلی 20 دسمبر 2018 یعنی آج سے ایک روز قبل ہی کی گئی لیکن عمران کے نانا کے بارے میں معلومات ہنوز موجود ہیں۔ ثبوت کے طور پر اس کا اسکرین شاٹ بھی دے رہا ہوں تاکہ اس کے بعد اگر "کوئی" یہ معلومات غایب کروادے تو میرا دعویٰ بے ثبوت نہ رہ جائے۔ یہاں میں اس صفحے کا لنک بھی دے رہا ہوں تاکہ آپ خود بھی ملاحظہ کرسکیں۔
کمنٹ میں مرزا غلام قادیانی کی کتاب روخانی خزائن جلد 11 صفحہ 325 کا ایک سکرین شارٹ درج ہے غور سے پڑھے،
.
(یہاں پر اس کتاب کا منسلک عکس عبداللہ احمد حسان صاحب کا ہی پیش کردہ ہے اور میں اس کو جوں کا توں یہاں شائع کر رہا ہوں۔)
................
سوشل میڈیا کے ہی ایک ساتھی سلیم فاروقی کی مزید تحقیق کے مطابق "ویکی پیڈیا" پر عمران خان کے خاندان کے بارے میں ایک صفحہ ہے جس میں عمران خان کے ننہیال کے حوالے سے بھی یہ انکشاف موجود ہے کہ عمران خان کے نانا جس وقت جالندھر میں کمشنر تھے اس وقت مرزا غلام احمد قادیانی کے خدمت گذار تھے۔ تاآنکہ وہ تقسیم کی باعث پاکستان آنے پر مجبور ہوگئے۔ یہاں یہ بتانا ضروری محسوس کرتا ہوں کہ اگر عمران کی خاندانی معلومات پر مبنی اس صفحے کو ذرا گھنگالیں تو معلوم ہوگا کہ یہ صفحہ مئی 2014 میں ترتیب دیا گیا اور اس میں گاہے بگاہے تبدیلی بھی ہوتی رہی آخری تبدیلی 20 دسمبر 2018 یعنی آج سے ایک روز قبل ہی کی گئی لیکن عمران کے نانا کے بارے میں معلومات ہنوز موجود ہیں۔ ثبوت کے طور پر اس کا اسکرین شاٹ بھی دے رہا ہوں تاکہ اس کے بعد اگر "کوئی" یہ معلومات غایب کروادے تو میرا دعویٰ بے ثبوت نہ رہ جائے۔ یہاں میں اس صفحے کا لنک بھی دے رہا ہوں تاکہ آپ خود بھی ملاحظہ کرسکیں۔
(Khan's maternal family lived in twelve fortresses in an area in Jalandhar founded by the Burkis known as the Basti Pathan (lit. Pathan Colony). Khan's maternal grandfather, Ahmed Hasan Khan, was a civil servant and known to have hosted Mirza Ghulam Ahmed , the founder of Ahmadia Community Qadiani, at Basti Pathan.)
Comments
Post a Comment