Posts

اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے

Image
  جرح وتنقید اور اعتراضات Ayat No :  67   : المائدة يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ۖ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ . Tafseer Ibn-e-Kaseer - Al-Maaida : 67 یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ يٰٓاَيُّھَا  : اے  الرَّسُوْلُ  : رسول  بَلِّغْ  : پہنچا دو  مَآ اُنْزِلَ  : جو نازل کیا گیا  اِلَيْكَ  : تمہاری طرف (تم پر  مِنْ  : سے  رَّبِّكَ  : تمہارا رب  وَ  : اور  اِنْ  : اگر  لَّمْ تَفْعَلْ  : یہ نہ کیا  فَمَا  : تو نہیں  بَلَّغْتَ  : آپ نے پہنچایا  رِسَالَتَهٗ  : آپ نے پہنچایا  وَاللّٰهُ  : اور اللہ  يَعْصِمُكَ  : آپ ک...

رافضی کے معنی

 رافضی کے معنی  حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے ایک صحابی نے آپ علیہ السلام کے سامنے اس بات کی شکایت کی کہ ہمیں لوگ اس ( رافضی) نام سے پکارتے ہیں  تو آپ علیہ السلام نے تین مرتبہ فرمایا  میں بھی رافضی ہوں ابو بصیر روایت کرتے ہیں  میں امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا  میں آپ پر قربان  دشمنوں نے ہمارا ایسا نام رکھ دیا ھے جس کے ذریعہ ھماری جان ومال کو حلال جانتے ہیں اور ہمیں آزارواذیت دیتے ہیں  تو امام علیہ السلام نے سوال کیا وہ کیا نام ھے ؟ تومیں( ابو بصیر) نے کہا ،،رافضی،، تو امام علیہ السلام نے فرمایا  فرعونی لشکر کے 70 فوجی فرعون کی مخالفت کرتے ہوئے جناب موسیٰ علیہ السلام سے ملحق ہوگئے اور جناب موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں ان سے زیادہ کام کرنے والا کوئی نہیں تھا  اور وہ پوری قوم میں جناب ہارون علیہ السلام سے سب سے زیادہ محبت کیا کرتے تھے چنانچہ  حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو رافضی ( حکومت سے بغاوت کرنے والے) کا نام دیا  اس موقع پر خداوند عالم نے جناب موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل کی کہ اس گروہ کا یہ نام توریت میں ثبت ...

امام زین العابدینؑ کی شان میں فرزدق کا معروف قصیدہ مع ترجمہ

  امام زین العابدینؑ کی شان میں فرزدق کا معروف قصیدہ مع ترجمہ خلیفہ بنی امیہ ہشام بن عبد الملک حج پر گیا اور طواف کے بعد اس نے حجرِ اسود کو بوسہ دینے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے اپنی پوری دنیاوی شان و شوکت کے ساتھ چل پڑا۔ لیکن لوگ طواف اور اللہ کی تسبیح میں اتنے مشغول تھے کہ بادشاہ کو حجرِ اسود کی طرف جانے نہ دیا اور ہشام کے غلام بھی بے بس نظر آئے۔ پھر ہشام پلٹ گیا، ایک اونچے تخت پر جا بیٹھا اور حاجیوں کو دیکھنے لگا۔ اسی وقت امام زین العابدین علیہ السلام کی مسجد الحرام میں آمد ہوئی اور لوگوں نے آپ علیہ السلام کو راستہ دینا شروع کر دیا۔ یہ دیکھ کر ہشام چونک اٹھا۔ کسی نے پوچھا کہ یہ کون شخصیت ہیں۔ ہشام نے جان کر انجان بنتے ہوئے کہا میں نہیں جانتا یہ کون ہیں اور کیوں لوگ ان کے ارد گرد جمع ہیں۔ فرزدق نے،جو اس وقت وہاں موجود تھے، جواب دیا: ’’لیکن میں جانتا ہوں یہ کون شخصیت ہیں‘‘ اور یہ کہہ کر ایک طویل قصیدہ بیان کیا :   اے جود و کرم، شرافت و بزرگی کے مرکز کے بارے میں سوال کرنے والے، اس کا واضح جواب میرے پاس ہے اگر سوال کرنے والے میرے پاس آیئں۔ يَا سَائ...