ایمان والو خبردار خدا و ر رسول کے سامنے اپنی بات کو آگے نہ بڑھاؤ (Surah#49 الحجراتand Ayat# 1)
ایمان والو خبردار خدا و ر رسول کے سامنے اپنی بات کو آگے نہ بڑھاؤ اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ ہر بات کا سننے والا اور جاننے والا ہے. ایمان والو خبردار اپنی آواز کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرنا اور ان سے اس طرح بلند آواز میں بات بھی نہ کرنا جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تمہیں اس کا شعور بھی نہ ہو
ان میں سے پہلی آ یت کے لیے جوشان نزول بیان کی ہیں .یہ ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ) خیبر کی طرف روانہ ہوتے وقت کسی کو مدینہ میں اپنی جگہ متعین کرناچاہتے تھے ، لیکن عمر نے کسی دوسرے آدمی کو متعین کرنے کی تجو ویز پیش کی اس پر اُوپر والی آ یت نازل ہوئی اور یہ حکم دیا کہ تم خدا اور پیغمبر سے آگے نہ بڑھا کرو ( ١)
١۔ "" تفسیر قرطبی "" جلد ٩ صفحہ ٦١٢١
ایک دوسری شان ِنزول بھی بیان کی گئی ہے جوپہلی آ یت سے بھی مربو ط ہے ، اوربعد والی آ یت سے بھی ، اور وہ یہ ہے کہ :
ہجرت کے نویں سال جو عام الوفود تھا . یعنی وہ سال جس میں قبائل کے قسم قسم کے وفوداسلام قبول کرنے یاعہد و پیمان کرنے کے لیے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)چنانچہ جس وقت بنی تمیم کے قبیلہ کے نمائندے پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں آ ئے توابوبکر نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے سامنے تجویز پیش کی کہ تعقاع کو( جوان کے اشراف میں سے ایک تھا ) آپ کاامیر بنادیا جائے اور عمرنے یہ تجویز پیش کی کہ اقرع بن حابس کواسی قبیلہ کاایک دوسراآدمی امیر بنا یاجائے ۔ آگے (کچھ فرق کے ساتھ ) یہ داستان نقل ہوئی ہے ( یہ حدیث صحیح بخاری میں بھی آ ئی ہے . صحیح بخاری جز ٦ صفحہ ١٧٢ ،سورۂ حجرات کی تفسیر میں ۔
https://hamariweb.com/islam/hadith/sahih-bukhari-4845/ ہم سے یسرہ بن صفوان بن جمیل لخمی نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ قریب تھا کہ وہ سب سے بہتر افراد تباہ ہو جائیں یعنی ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما ان دونوں حضرات نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کر دی تھی۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب بنی تمیم کے سوار آئے تھے ( اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے درخواست کی کہ ہمارا کوئی امیر بنا دیں ) ان میں سے ایک ( عمر رضی اللہ عنہ ) نے مجاشع کے اقرع بن حابس کے انتخاب کے لیے کہا تھا اور دوسرے ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے ایک دوسرے کا نام پیش کیا تھا۔ نافع نے کہا کہ ان کا نام مجھے یاد نہیں۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کا ارادہ مجھ سے اختلاف کرنا ہی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرا ارادہ آپ سے اختلاف کرنا نہیں ہے۔ اس پر ان دونوں کی آواز بلند ہو گئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم» ”اے ایمان والو! اپنی آواز کو نبی کی آواز سے بلند نہ کیا کرو“ الخ۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اتنی آہستہ آہستہ بات کرتے کہ آپ صاف سن بھی نہ سکتے تھے اور دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا۔ انہوں نے اپنے نانا یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق اس سلسلے میں کوئی چیز بیان نہیں کی۔
Comments
Post a Comment