قرطاس اور جون ایلیا کی نظم کا ٹکڑا

 یوم قرطاس اور جون ایلیا کی نظم کا ٹکڑا 


رسولِ خدا کی شہادت سے تین سے قبل یہ واقعہ رسول کے ہجرے میں آج ہی کے دن یعنی پچیس صفر گیارہ ہجری کو پیش آیا اس واقعے کو بخاری نے چھ جگہ مسلم نے تین جگہ ذکر کیا ہے بخاری و مسلم نے یہ تک لکھا ہے کہ عبد اللہ ابن عباس یوم الخمیس کہہ کر بہت روتے تھے کیونکہ اسی دن یہ واقعہ رونما ہوا 

واقعہ پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ رسول خدا کفار و مشرکین میں نہیں بلکہ اپنوں کے ہوتے ہوئے مظلوم ہیں رسول پاک بستر پر لیٹے لیٹے اپنے اصحاب سے کاغذ قلم مانگتے ہیں کہ کچھ سامان ہدایت لکھ دوں لیکن رسول پاک کو کاغذ قلم دینے سے انکار کیا گیا انکار کرنے والے کوئی کفار و مشرکین نہیں بلکہ رسول خدا کے اپنے ہی اصحاب میں سے ہیں بخاری و مسلم نے انکار کرنے والوں کو گول مول کر دیا ہاں منکرین میں ایک نام کی تصریح کی وہ مسلمانوں کے خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب ہیں 

ادھر رسول پاک نے قلم کاغذ مانگا پاس بیٹھے اصحاب میں کچھ نے کہا دینا چاہیے کچھ منکرین میں تھے دونوں طرف شور وغل بلند ہوا جس سے رسول پاک کو بے حد تکیف ہوئی بقول بخاری آخر کار رسول پاک نے ان اصحاب کو قوموا عنی کہہ کر وہاں سے نکل جانے کو کہا 

جون کی ایک طویل نظم راموز کو جب پڑھتا ہوں تو جانے کیوں بار بار میرے ذہن میں واقعہ قرطاس و قلم یاد آنے لگتا ہے ۔۔۔واللہ اعلم باالصواب


لَوحِ کتاب ۔۔۔۔جون ایلیا


مجھے قلم دو کہ میں تمہیں اک کتاب لکھ دوں

تمہاری راتوں کے واسطے اپنے خواب لکھ دوں

کتاب جس میں ہدایتیں ہیں

کتاب جس میں تمہارے امراض کی شفا ہے

مجھے قلم دو

مجھے قلم دو

یہ کون گستاخ میرے نزدیک بیٹھ کر بِلبِلا رہا ہے

یہ کون بےہودہ مدّعی ہیں جو مجھ پہ ایزاد کر رہے ہیں

انہیں اُٹھا دو

انہیں اُٹھا دو

میں کہہ رہا ہوں انہیں اُٹھا دو

کہ ان کے انفاس کی عفونت سے میرے مقدس کا رمز

پاکیزہ رمز ناپاک ہو رہا ہے

میں دیکھتا ہوں کہ میری ہیکل کے چند خدّام اور جارُوب کش

بہ شدت یہ چاہتے ہیں کہ میں نہ بولوں

یہ چاہتے ہیں کہ میری آواز میرے سینے میں گُھٹ کے رہ جاۓ

میں نہ بولوں


کونین الغروی

Comments

Popular posts from this blog

قد رآی عینُ الله و ضرب یدُ الله

کیا عمران خان کی ماں قادیانی تھی ۔۔۔؟؟؟

اگر فاطمہ چوری کرتی تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جاتا؟ کیا یہ ممکن ہے؟ ("Agar (Meri Beti) Fatima (RaziAllahu Anha) Ne Bhi Chori Ki Hoti Tou Mai Uska Bhi Haath Kaat Leta”.)