25 , صفر واقعہ قرطاس

 ❤️ 25 , صفر واقعہ قرطاس :

❤️ دنیا بھر میں ایک اصول ھے :

💓 کہ اگر کسی بھی گھر ، قوم یا قبیلے کے سربراہ کا آخری وقت ھو ۔ تو اسکے آخری الفاظ و اقوال کو بہت اھمیت دی جاتی ھے ۔ اور ان اقوال پر عمل کرنا اپنے لیئے باعث فخر و افتخار سمجھا جاتا ھے ۔ دین و شریعت اور اسلام میں ان الفاظ کو وصیت کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ھے ۔


❤️ اسی طرح اپنے وقت آخر پیغمبر اکرم (ص) نے بھی اپنے بعد مسلمانوں کو گمراھی سے محفوظ رکھنے کا نسخہ لکھنے کیلیئے اپنے ھی صحابہ کرام سے قلم دوات مانگی ۔ جسے مکتب تسنن کی بخاری شریف جیسی معتبر ترین کتاب کے مطابق حضرت عمر نے یہ کہہ کر رد کر دیا ۔ ""” کہ یہ شخص (پیغمبر اکرم ص) بیماری کیوجہ سے (معازاللہ) ھذیان کہہ رہا ھے ۔“""


❤️ یوں رسول اکرم (ص) امت کو گمراھی سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے اپنی وصیت نہ لکھ سکے ۔ اس پر وہاں موجود لوگوں میں اختلاف پیدا ھوگیا ۔ بعض نے کہا ، جناب عمر کی بات درست ھے ۔ اور بعض کو ارشاد نبی (ص) ھی درست لگا ۔ جب شور وغل بڑھا ۔ تو آپ (ص) بہت رنجیدہ ھوئے اور سبکو (اپنی محفل سے) چلے جانے کو کہا ۔ یہ اتنی بڑی جسارت ۔۔ اور اتنی بڑی گستاخیء رسول (ص) ۔۔۔ کہ الامان ، الامان ۔۔۔۔۔۔ !!


❤️ مکتب تسنن کی کتب معتبرہ مثل بخاری شریف کی اس حدیث کا مضمون یہ ھے - کہ نبیؐ پاک (ص) اپنے بستر بیماری پر حکم دے رھے ھیں - کہ مجھے کاغذ اور قلم لا دو - تاکہ میں ایسی تحریر لکھ دوں - کہ میرے بعد تم میں کوئی اختلاف نہ رھے - مگر ایک شخصیت کہہ رھی ھیں - کہ نبیؐ پاک (ص) کو (معازاللہ) ھذیان ھو گیا ھے - اور ھمارے لیئے قرآن ھی کافی ھے - اختلاف بڑھا ۔ نبی پاک (ص) کی آواز سے آوازیں بلند ھوئیں اور اتنا شور و غل ھوا ۔ کہ پیغمبر اکرم (ص) نے ان سبکو اپنے پاس سے دور ھو جانے کو کہا ۔


❤️ حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں :

بخاری شریف جلد اول صفحہ 154 ، 

مشکواة شریف جلد 3 صفحہ 207 ، 

صواعق محرقہ ابن حجر مکی صفحہ 12 ، 

معارج النبوة معین الکاشفی جلد 3 صفحہ 487 ، 

مسلم شریف جلد 4 صفحہ 264 ، 

تاریخ ابو الفدا صفحہ 93 ، 

لغات الحدیث وحیدالزماں جلد 4 باب " ل " صفحہ 45 ، 

سیرت حلبیہ جلد 6 صفحہ 486 وغیرہ ۔


❤️🌹 حدیث قرطاس و قلم ۔۔۔۔ 

❤️🔹 اھلسنت کے 8 علماء کا بیان 👆👇

❤️👈 صحیح بخاری شریف میں قرطاس و قلم والی حدیث سات مقام پر الگ الگ موجود ھے :


❤️ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی وفات سے قبل کاغذ قلم مانگا اور کہا ۔ مجھے کاغذ قلم دو تاکہ میں تمہارے لیئے وہ تحریر لکھ جاوں ۔ کہ میرے بعد تم گمراہ نہیں ھو گے ، رسول اکرم (ص) کا یہ جملہ بتا رھا ھے ۔ کہ اگر لکھنے دیا تو گمراہ نہیں ھو گے ۔ اور تصویر کا دوسرا رخ یہ کہ اگر نہیں لکھنے دیا تو ضرور گمراہ ھو جاؤ گے ۔ 


❤️ غدیر خم کے میدان میں رسول اکرم (ص) حضرت علی (ع) کی ولایت ، امامت اور خلافت کا اعلان کر چکے تھے ۔

من کنت مولا ۔۔۔۔۔ (الحدیث)


💓 مگر لوگ ایسے گمراہ ھوئے :

کہ پیغمبر اکرم (ص) کا جنازہ بھی چھوڑ کر سقیفہ میں حکومت کی بندر بانٹ کے لیئے جمع ھو گئے . اور مولا علی (ع) افضل کے ھوتے ھوئے ایک مفضول کو خلیفہ بنا دیا ۔ کیا رسول اللہ (ص) کو نعوذ بااللہ معلوم نہیں تھا . کہ دین مکمل ھوا ھے یا نہیں ?? کیا حضرت عمر کو پتہ تھا کہ اب دین مکمل ھو گیا ھے ۔ تو ھمارے لیئے قرآن کافی ھے ??


❤️ استغفر اللہ !! 

💓 نبی (ص) کی آواز کے سامنے آپنی آواز بلند کی ، اپنی منطق چلائی ۔ جب کہ رسول اکرم (ص) کچھ بولتے ھی نہیں سوائے وحی کے ۔۔۔۔ !! نیز و من یطع الرسول فقد اطاع اللہ : پیغمبر اکرم (ص) کی اطاعت ھی اللہ کی اطاعت ھے ۔ اتنی آسان سی بات مسلمانوں کے دماغ میں نہیں آتی ۔ کہ رسول (ص) نے کچھ مانگا اور کچھ اصحاب نے دینے نہیں دیا ، تو کیا یہ رسول (ص) کی حکم عدولی نہیں ??? 


💓 واہ رے واہ مسلمان !!

💓 نبی (ص) کی آواز سے آواز بلند کرنے پر آیت ۔۔۔۔ 

💓 (آیت قرآن) : 

💓 یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ ۔ (۲)


💓 ترجمہ : 

💓 کنزالایمان ۔ اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور انکے سامنے بات چلّا کر نہ کہو ۔ جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ھو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت (ضائع) نہ ھو جائیں اور تمہیں خبر نہ ھو ۔۔۔۔۔ 

(نوٹ : یعنی نبی (ص) کی بات پر اپنی بات نہ کرنا ، نبی پاک (ص) کی بات سے آگے بڑھ کر اپنی بات نہ کرنا)


❤️ خلیفہ دوئم کہ جنہوں نے نبی (ص) کی موجودگی میں نبی (ص) کی سنت کا انکار کرتے ھوئے کہا : کہ "ھمارے لیئے قرآن کافی ھے ۔" دوسری بات کہ گستاخ رسول (ص) ھونے کیلیئے انکی دو باتیں ھی کافی ھیں ۔۔۔۔۔


💓 1- ایک یہ کہ نبی (ص) کی حکم عدولی کرتے ھوئے ،

💓 "کاغذ قلم کا نہ دینا" ۔ اور ۔۔۔۔۔۔۔۔

💓 2- دوسرے صلح حدیبیہ کے موقع پر ،

💓 نبی پاک (ص) کی نبوت پر شک کرنا ۔۔۔ 

💓 اور یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

💓 دونوں باتیں صحیح بخاری شریف میں ھیں ۔


❤️ شریعت ، قرآن ، دین اور اسلام کے نزدیک نبیؐ پاک (ص) کا حکم تو جان سے بھی زیادہ افضل ھے - اور انکا کلام حکم خدا سے ھوتا ھے - مگر یہاں یہ شخصیت ھے - کہ نبیؐ (ص) کی توھین کر رھی ھے - جب شیعہ مکتب کے ایک طالب علم نے ان شخصیت کی خدمات دیکھیں - تو پوری زندگی میں انھوں نے جتنی بھی جنگیں لڑیں - کبھی بھی ثابت قدم نہ رھے - تاریخ میں (وہ بھی انکی ھی ایک روایت کیمطابق) سوائے ایک کافر کے کسی کا قتل انکے حصے میں نہ آیا - یہی صاحب مجھے نبیؐ پاک (ص) کی وفات کے کچھ ھی دن بعد انکی بیٹی کے گھر کے دروازے پر آگ اور لکڑیاں لیکر بھی کھڑے نظر آئے - اور چلا رھے تھے ۔ کہ علیؑ (ع) نے بیعت نہ کی - تو خدا کی قسم میں آگ لگا دونگا -


❤️ حوالہ جات ملاحظہ کیجیئے :

الفاروق شبلی نعمانی صفحہ 124 ، 

تاریخ ابوالفدا صفحہ 105 ، 

ازالتہ الخفاء شاہ ولی اللہ محدث دھلوی ،

(مقصد دوئم صفحہ 362)

الامامت والسیاست ابن قتیبہ دینوری صفحہ 22 .


❤️ نیز شبلی نعمانی نے تو یہ بھی لکھا ھے : 

💓 کہ خلیفہ دوئم کی عادت نہایت تند و تیز اور مشتعل قسم کی تھی ۔ یعنی اسکی تندیء مزاج سے یہ واقعہ کچھ بعید بھی نہیں !! الفاروق شبلی صفحہ 124 ، 654 . یہ بھی میں نہیں کہہ رھا - بلکہ اھلسنت کے معتبر مورخ شبلی نعمانی کی کتاب الفاروق کہہ رھی ھے - اور اھلسنت کی تاریخی کتب تاریخ مسعودی و تاریخ طبری و دیگر کتب کہہ رھی ھیں ۔ حوالہ جات اوپر درج کیئے جا چکے ھیں ۔


❤️ یہاں پر ایک مسلمان حیرت اور افسوس کے ساتھ یہ سب دیکھ رھا ھے - کہ کیا یہی وہ اچھے دوست (یار) ھیں نبیؐ پاک (ص) کے ?? کیا اسے محبت اور دوستی کہتے ھیں ?? کیا یہی وہ اجر رسالت (ص) ھے - جسکی قرآن و نبیؐ (ص) نے تنبیہ کی تھی ?? اب جسکا دل اس دوستی اور محبت کے خوفناک مظاھرے کو ھضم نہ کر سکا - اور وہ پیغمبر اکرم (ص) کیساتھ کھڑا ھوا ۔ وہ شیعان علی (ع) قرار پایا ۔ 


❤️ تو یہاں اب اسی شیعہ کے پاس 2 آپشنز تھے - 

💓 یا تو نبی (ص) کو (معازاللہ) حامل ھزیان سمجھے - اور انکے ھر حکم کا انکار کر دے - یا انکے خلاف ایسی باتیں کرنے والی شخصیت سے بیزاری کرے - 

تو شیعہ نے نبیؐ پاک (ص) کی حمایت کی - 

کیونکہ اگر اس شخصیت کی بھی شان و پہچان بنی تھی - تو نبیؐ (ص) ھی کی وجہ سے ھی بنی تھی ۔


❤️ امت کو گمراھی سے بچانے کا معاملہ تھا ۔

❤️ اس تحریر میں کوٸی ایسی بات ضرور ھوتی ۔ 

❤️ جس سے مسلمانوں کا تمام شک و شہبہ دور ھو جاتا ۔ 

لیکن شائید جناب عمر یہ جان گئے تھے ۔ کہ غدیر میں رسول (ص) نے جو بات ذبانی کہی تھی ۔ آج اسکی تاکید و تحریری طور پر وصیت کرنا چاھتے ھیں , کوٸی بیوقوف ھی یہ کہے گا ۔ کہ خلیفہ دوٸم نے رسول خدا (ص) کے مرض کی شدت کا احساس کر لیا اور اس لیئے منع کیا کہ آپ (ص) کو آرام مل جاۓ ۔ اسی لیئے ابن حجر مکی نے بھی یہ عبارت نقل کر دی کہ : 


❤️ قرطاس کا جھگڑا امامت و خلافت کے بارہ میں تھا ۔ 

💓 ایک نظر دیکھ لیجیئے ۔ حوالہ ملاحظہ کیجیئے :

💓 صواعق محرقہ ابن حجر مکی صفحہ 12 .


❤️ یہاں سوال یہ پیدا ھوتا ھے :

💓 کہ کیا عمر رسول اکرم (ص) سے ذیادہ علم رکھتے تھے ?? 

معاذاللہ !! کہ رسول (ص) تو قرآن کے ھوتے ھوئے بھی اپنی تحریر کی ضرورت محسوس کرتے رھے ۔ جبکہ عمر کے نزدیک تحریر کوئی ضروری نہیں تھی ۔ 

أَسْتَغْفِرُ اللّٰه !! 

اس واقعے میں خلیفہ دوٸم کی جانب سے رسول (ص) کے حکم کی تعمیل نہ کرنا ، اور خاصکر آپکی طرف ھذیان کی نسبت دینا نہایت اھمیت کا حامل بھی ھے ۔ 


❤️ اور توھین رسالت مآب (ص) بھی ۔ 

💓 مگر بہت تعجب کی بات یہ ھے !! کہ لوگ اس واقعہ کو پڑھ کر ایسے گزر جاتے ھیں ۔ کہ جیسے کچھ ھوا ھی نہیں ۔ اور اس قرآنی حکم کو بھی پس پشت ڈال دیتے ھیں ۔ 

کہ جو رسول (ص) دے ، وہ لیلو ۔ 

اور جس سے روکے ۔۔۔۔۔ رک جائو ۔۔۔ !! (قرآن پاک)


❤️ عبداللہ بن مسعود کہا کرتے تھے : 

💓 کہ ابن عباس نے کہا ۔ سب سے بڑا المیہ اور سانحہ یہی ھوا کہ لوگوں نے اپنے اختلاف اور شور و غل کیوجہ سے رسول اکرم (ص) کو نوشتہ لکھنے سے روک دیا ۔ اور ابن عباس اس واقعہ قرطاس کو یاد کرکے اتنا روئے کہ زمین کی کنکریاں آنسوئوں سے تر ھو گئیں ۔


❤️ حوالہ دیکھیں : 

بخاری شریف جلد 2 صفحہ 227 ، 

مشکواة شریف جلد 3 صفحہ 208 وغیرہ ۔


❤️ اھم نوٹ : (قومواعنی)

❤️ 1- پیغمبر اکرم (ص) نے جن افراد کو ناراضگی سے " قوموا عنی " کا خطاب دیکر اپنی محفل سے اٹھا دیا تھا ۔ اب کسی بھی کتاب اور روایت سے ثابت نہیں ھے ۔ کہ وہ محفل رسول اللہ (ص) سے اڑائے گئے افراد وصال پیغمبر اکرم (ص) سے پہلے رسول پاک (ص) کی بارگاہ میں آئے ھوں ۔ انہوں نے معافی طلب کی ھو ۔ یا پیغمبر اکرم (ص) نے انہیں معاف کیا ھو ۔ 


💓 عاقل را اشارہ کافی است ۔۔۔۔ !!


❤️ 2- (ھجر کے معنی)

💓 اگر کوئی ھجر کے معنی دیکھنا چاھے ۔ تو شبلی نعمانی بھی اپنی کتاب الفاروق صفحہ 111 ، 112 پر رقمطراز ھے ۔ کہ ھجر کے معنی " ھزیان " کے ھی ھیں ۔


❤️ 3- اگر کوئی سوال کرے :

💓 کہ اگر خلیفہ دوئم نے تحریر لکھوانے میں پس و پیش کیا ۔ اور وصیت کے تحریر کرنے میں مانع ھوئے ۔ تو حضرت علی (ع) تحریر لکھوا لیتے !!


❤️ اسکا جواب بھی عرض ھے کہ :

💓 رھی بات حضرت علی (ع) کی یا اھلبیت (ع) کی !! 

💓 کہ انہوں نے تحریر کیوں نہیں لکھوا لی ?? 


❤️ تو عرض ھے :

💓 کہ نسخہ شفایابی مریضوں ، گناھگاروں اور ھدایت کی ضرورت والوں کیلیئے ھوتا ھے ، ھدایت دینے والے ھادیان برحق اور صاحبان عصمت و مصداق آیت تطہیر کیلیئے نہیں !! نیز مکتب تسنن کی کتب " ادب المفرد ، امام بخاری " میں موجود ھے ۔ کہ پاک پیغمبر (ص) نے امت کیلیئے یہ ھدایت نامہ لکھ کے مولا علی (ع) کو دے دیا تھا ۔ 


❤️ ملاحظہ ھو : 

💓 امام بخاری فرماتے ھیں ۔ 

کہ مولا علی (ع) کی تلوار کے نیام میں پیغمبر اکرم (ص) کے فرمان کا ایسا نوشتہ تھا ۔ جسکو کوئی نہ جانتا تھا ۔ کتاب ادب المفرد صفحہ 58 . اور امام بخاری ھی فرماتے ھیں ۔ کہ واقعہ قرطاس میں (اتمام حجت کیلیئے) حضرت علی (ع) نے تحریر لکھوا لی تھی ۔ ادب المفرد صفحہ 89 ..... !! کیونکہ امام نسائی کا بیان ھے . کہ پیغمبر اکرم (ص) کے وصال کے موقع پر آپ (ص) کے سب سے آخری ملاقاتی حضرت علی علیہ السلام تھے ۔ حوالہ ملاحظہ ھو ۔ خصائص نسائی شریف صفحہ 78 .


❤️ ایک اور جواب :

💓 اگر کہا جائے ۔ کہ مولا علی علیہ السلام نے پیغمبر اکرم (ص) کی لکھوائی ھوئی تحریر خلیفہ صاحب اور صحابہ کرام کو پیش کیوں نہ کی ۔ تو جواب عرض ھے ۔ کہ جن حضرات نے پیغمبر اکرم کی اپنی لخت جگر ، خاتون جنت سیدہ فاطمة الزھرا (ص) کو لکھ کے دی ھوئی تحریر (فدک) کا حیاء نہ کیا ۔ اور اسکے پرزے پرزے کر دیئے ۔ وہ اس تحریر قرطاس کا احترام کیا کرتے ?? شرم تمکو مگر نہیں آتی !!


❤️ متن حدیث بحوالہ : 

صحیح مسلم جلد 5 صفحہ 70 .

مسند امام احمد جلد اول صفحہ 355 .

تاریخ طبری جلد 3 صفحہ 193 .

تاریخ ابن اثیر جلد 2 صفحہ 320 .

پھر میں ھدایت پا گیا ۔ صفحہ 113 .


❤️ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، 

💓حضرت علی علیہ السلام کیلیئے وصیت چاھتے تھے ۔

💓 آیت اللہ جعفر مرتضی عاملی (لبنان) اپنی کتاب "" احسن الجوابات "" میں مندرجہ عنوان پہ ھی معترضین کے ایک سوال کے جواب میں رقمطراز ھیں ، 


❤️ ملاحظہ فرمائیں کہ :

💓 اعتراض :

💓 شیعہ دعویٰ کرتے ھیں ۔۔۔۔

💓 حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی مرض موت میں حضرت علی علیہ السلام کیلیئے وصیت لکھنا چاھتے تھے ۔ لیکن اس کام میں ایک شخص رکاوٹ بنا ، اور اسنے کہا : (معاذاللہ) آپ (ص) ھذیان کہہ رھے ھیں ۔ یا ان پر درد کا غلبہ ھے ۔ یا ایسے الفاظ استعمال کیئے ۔ جنکا مفہوم یہی تھا ۔ اسکے علاوہ حدیث ھے ھی نہیں ۔ کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاھا تھا ۔ کہ امام علیہ السلام کی خلافت کی تحریر لکھیں ۔ بس شیعوں کو غیب سے اوامر ملتے ھیں ۔ جنکی بناء پر ایسی باتیں بناتے ھیں ۔ وہ خوامخواہ امر امامت کو ثابت کرنا چاھتے ھیں ۔ حالانکہ انکے پاس دلیل بھی نہیں ھے ۔ اسلیئے انکی حجت اس طریقے سے باطل ھے ۔ کیا اس سوال کا کوئی جواب ھے تو تحریر فرمائیں ۔۔۔۔۔۔


❤️ الجواب :

💓 اس سوال کے جواب کیلیئے ،

💓 مندرجہ توضیحات ملاحظہ فرمائیں !!

💓(1) : خلیفہ ثانی کو معلوم تھا ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مرض وصال میں کاغذ ، قلم لیکر امام علی علیہ السلام کی امامت کی تصریح فرمائیں گے ۔ جسکی وجہ سے انہوں نے حاضرین کو منع کر دیا تھا ۔ (کہ وہ معاذاللہ ھذیان میں ھیں) ، اس واقعہ کو اھلسنت نے اپنی معتبر ترین کتب میں روایت کیا ھے ۔ (شرح نہج البلاغہ معتزلی جلد 12 صفحہ 21 ، الرجال جلد 6 عبداللہ ابن عباس) 


💓(2) : اگر ھم فرض کر لیں ، کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امام علی علیہ السلام کی امامت کو لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔ لیکن اسکے اس قول میں تو یقین ھے ۔ کہ اسنے کہا کہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (معاذاللہ) ھذیان ھوا ھے ۔ یا درد کا غلبہ ھے ۔ یا اس مفہوم کے قریب قریب الفاظ ادا کیئے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیساتھ اس سے بڑی گستاخی اور کیا ھو سکتی ھے ??


💓 حضرت کے اس قول میں شک والی بات ھے ھی نہیں !!

💓 جی ھاں : ایسے الفاظ بارگاہ رسالت (ص) میں ادا کرنا ایک بہت بڑی جسارت ھے ۔ عزت و عظمت پیغمبر (ص) کے منافی الفاظ اور انکیلیئے کہنا !! آپ اسکو کیا کہیں گے ?? اس شخص کے بارے میں آپکی رائے کیا ھوگی ?? ایسے شخص کی امامت و خلافت کے بطلان کیلیئے یہی الفاظ کافی ھیں ۔ پھر کہیں نہیں ملتا ، کہ انہوں نے معافی مانگی ھو ، یا توبہ کی ھو ،، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسکو معاف کیا ھو ?? بلکہ اس واقعہ کے چند دن بعد ھی بنت محمد (ص) پہ ھجوم کیا ، آگ اور لکڑیاں لائی گئیں ۔ اور خانہ سیدہ (ص) پہ گستاخی کی !! اور فرمان پیغمبر (ص) کے مطابق "" من اغضبھا اغضبنی "' کا مصداق ھوا ۔


💓(3) : تیسری بات یہ ھے ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لکھنا ترک کر دیا تھا ۔ آپ (ص) نے عبداللہ بن عمرو بن عاص کو حکم دیا ۔ کہ جو کچھ میرے ھونٹوں سے صادر ھو ۔ اسکو لکھ لیا کرو ۔ قسم بخدا جو کچھ ان سے صادر ھوتا ھے ۔ وہ حق ھے ۔ اس حق کے کلام کی خلاف ورزی بھی کی گئی ۔۔۔۔۔


💓(4) : چوتھی بات یہ کہ ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں ارادہ فرمایا ۔ کہ ایک ضروری امر کو خود تحریر فرمائیں ۔ اس اھم امر میں رکاوٹ ، دراصل اللہ و رسول (ص) کی مخالفت ھے ۔۔۔۔۔۔


💓 (5) : پانچویں بات ، کیا وہ پیغمبر (ص) کو ایک تحریر لکھنے سے منع کرنے کا حق رکھتے تھے ?? پھر انہیں یہ حق کہاں سے حاصل ھوا تھا ?? کہ یہ کہے : کہ پیغمبر (ص) کو معاذاللہ ھذیان ھوا ھے ۔


💓(6) : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما دیا تھا ، کہ میں ایک ایسی تحریر لکھ دوں ۔ جسکے بعد تم گمراہ نہ ھوگے ۔ تو اس شخص کو "" حسبنا کتاب اللہ "" کا نعرہ مارنے کا کیا حق تھا ?? کیا وہ نبی اکرم (ص) سے زیادہ اعرف تھا ?? کیا اسے زیادہ علم تھا کہ ھدایت و گمراھی کا علاج کیا تھا ?? 


💓(7) : ھم آخر میں یہی کچھ عرض کرینگے ۔

💓 ایسا آدمی !! جسنے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اتنی جرات کی تھی ۔ تو کیا وھی آدمی اس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لخت جگر اور انکے شوھر پر جرات نہیں کر سکتا تھا ?? ھاں جرات کی تھی ، اور کئی گنا زیادہ کی تھی !!


💓 حوالہ :

احسن الجوابات : آیت اللہ جعفر مرتضی عاملی (لبنان)

مترجم : علامہ الطاف حسین کلاچی ،

ناشر : ادارہ منہاج الصالحین ، لاھور ،،

حصہ دوئم ، اشاعت : اکتوبر 2010 ۔

صفحہ 87 ، سطر 17 ۔۔۔۔۔


❤️ التماس دعا :

❤️ سید فاخر حسین رضوی ۔

Comments

Popular posts from this blog

قد رآی عینُ الله و ضرب یدُ الله

اگر فاطمہ چوری کرتی تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جاتا؟ کیا یہ ممکن ہے؟ ("Agar (Meri Beti) Fatima (RaziAllahu Anha) Ne Bhi Chori Ki Hoti Tou Mai Uska Bhi Haath Kaat Leta”.)

کیا عمران خان کی ماں قادیانی تھی ۔۔۔؟؟؟