All companion are not good (سب ساتھی\صحابہ اچھے نہیں ہیں۔)
وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ
100:09
وہ مہاجر و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی، نیز وہ جو بعد میں راستبازی کے ساتھ پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہی عظیم الشان کامیابی ہے
وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ
101:09
تمہارے گرد و پیش جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہو گئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے، ہم ان کو جانتے ہیں قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزا دیں گے، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے
ذوالخویصرہ تمیمی سعدی جس کا اصل نام حُرْقُوصْ بِنْ زُھَیْر ہے۔ صحابی تھا اور بیعت شجرہ والوں میں سے تھا۔ مگر یہ اندر سے منافق تھا۔ خوارج کی اصل بنیاد ہے اسے مفسرین نے اصل الخوارج راس الخوارج اوررئیس الخوارج تحریر کیا ہے۔
وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ
58:09
اے نبیؐ، ان میں سے بعض لوگ صدقات کی تقسیم میں تم پر اعتراضات کرتے ہیں اگر اس مال میں سے انہیں کچھ دے دیا جائے تو خو ش ہو جائیں، اور نہ دیا جائے
تو بگڑنے لگتے ہیں
حدیث میں ذکر
ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ جب ہم رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تھے آپ کچھ تقسیم فرما رہے تھے کہ آپ کے پاس چھوٹی کوکھ والا ایک شخص آیا جو بنی تمیم سے تھا، بولا یا رسول ﷲ انصاف کیجئے حضور نے فرمایا تیری خرابی ہو اگر میں انصاف نہ کروں تو کون کرے گا اگر میں انصاف نہ کروں تو تو خائب و خاسر ہو جاوے تو جناب عمر نے کہا مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن مار دوں فرمایا اسے چھوڑ دو کیونکہ اس کے کچھ ساتھی ہوں گے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلہ میں اور اپنے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں حقیر جانے گا وہ لوگ قرآن پڑھیں گے قرآن ان کے گلوں سے نیچے نہ اترے گا دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے کہ اس کی نوک اس کے پر اس کی قدح یعنی لکڑی اس کے نوک کے نیچے کو دیکھو تو اس میں کچھ نہیں پا جاتا ہے حالانکہ وہ گوبر اور خون میں سے گزرا ہے ان کی نشانی ایک کالا آدمی ہے جس کے بازوں میں سے ایک بازو عورت کے پستان کی طرح ہوگا یا گوشت کی بوٹی کی طرح جو ہلتا ہو یہ لوگ مسلمانوں کے بہترین فرقے کے خلاف خروج کریں گے۔ ابو سعید نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ جناب علی ابن ابی طالب نے ان لوگوں پر جہاد کیا میں آپ کے ساتھ تھا تو آپ نے اس شخص کے متعلق حکم دیا وہ ڈھونڈا گیا اسے لایا گیا حتی کہ میں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بتائی ہوئی علامت پر دیکھا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ایک شخص آیا دھنسی ہوئی آنکھیں، ابھری پیشانی، گھنی داڑھی، اونچی کنپٹی والا اور سر منڈا ہوا، وہ بولا اے محمد ﷲ سے ڈرو تو فرمایا کہ اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو ﷲ کی اطاعت کون کرے گا مجھے ﷲ تعالٰی زمین والوں پر امین بنائے اور تم مجھے امین نہ جانو ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت مانگی حضور نے منع فرمادیا جب وہ چلا گیا تو حضور نے فرمایاکہ اس کی پشت سے ایک قوم ہوگی جو قرآن پڑھے گی قرآن ان کے گلے سے نہ اترے گا وہ اسلام سے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے اگر میں انہیں پاؤں تو قوم عاد کی طرح قتل کروں۔(مسلم،بخاری)[6]
خلفاء کا ساتھ
خلفاء کا ساتھ حضرت عمر نے اس کی سربراہی میں ایک لشکر ہرمزان کی طرف بھیجا۔
وفات
38ھ میں مولا علی کے نہروان میں بھیجے ہوئے سردار احنف بن قیس کے لشکر کے ہاتھوں مارا گیا۔
Comments
Post a Comment