پورا ایران شیعہ کیسے ہوا؟

پورا ایران شیعہ کیسے ہوا؟ 
ایران کا ایک بادشاہ تھا جس کا نام 
 خدا بندا 
تھا 
کچھ لوگ 
 محمد الجائتو
بھی کہتے ہیں 
جو مسلمان تھا 
ایک دن اپنے تخت پر آکر پریشانی کی حالت میں بیٹھ گیا 
پریشانی کے آثار چہرے پر صاف نمودار ہو رہے تھے 
ان کے بہت ہی پرانے اور سینئر ترین وزیر نے پوچھا 
 عالم پناہ اگر جان کی امان ہوں 
پوچھ سکتا ہوں  بادشاہ سلامت پریشان کیوں ہیں  ؟
بادشاہ  نے پریشانی کے عالم میں جواب دیا
رات محل میں میرا بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوا اور میں نے غصے کے عالم میں تین بار اسے طلاق دے دی 
زبانی اسے کہا ہے طلاق طلاق طلاق 
اب صبح اٹھنے کے بعد مجھے احساس ہوا  غلطی میری تھی شاہی خون تھا جوش میں آ گیا 
اب پریشان اس لئے ہوں  کے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم 
میں شریعت محمدی میں 
بیوی مجھ پر حلال ہے یا حرام ؟
بادشاہ کی یہ بات سن کر اس کا وزیر بھی  بہت پریشان ہوا 
اس نے کہا  بادشاہ سلامت اگر یہ مسئلہ سیاسی یا دنیاوی ہوتا تو میں آپ کی مدد کر سکتا تھا 
کیونکہ یہ مسئلہ شرعی ہے تو علماء سے رجوع کرنا پڑے گا 
بادشاہ نے کہا پھر علماء کرام کو جمع کرو 
وزیر نے چار علماء بلائیں اور بادشاہ سے کہا بادشاہ سلامت ہمارے ملک میں سب سے بڑے چار علماء ہیں 
پہلے کرسی پر فقہ حنفیہ کا سب سے بڑا عالم دین بٹھایا 
دوسری کرسی پر فقہ مالک کا سب سے بڑا عالم دین بٹھایا 
تیسری کرسی پر  فقہ شافعی کا سب سے بڑا عالم دین بیٹھا تھا 
چوتھی کرسی پر فقہ امام احمد بن حمبل کا سب  سے بڑا عالم دین تھا 
وزیر نے کہا بادشاہ  سلامت ان کے سامنے مثلا پیش کیا جائے اور یہ عالم دین آپ کو اس کا حل بتائیں گے 
تمام درباری دربار میں بیٹھ کر سن رہے تھے 
بادشاہ نے علماء کرام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا 
رات میرا بیوی سے جھگڑا ہوا اور میں نے غصے کی حالت میں طلاق طلاق طلاق کہہ دیا 
آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ شریعت کے لحاظ سے بتائیں کیا طلاق ہو چکی ہے یا نہیں ؟
چاروں علماءکرام متفقہ فیصلہ دیا 
بادشاہ سلامت آپ کی طلاق ہو چکی ہے اور آپ کی بیوی  آپ  آپ پر حرام ہے 
بادشاہ سلامت نے کہا اگر میں  رجو کرنا چاہو تو دوبارہ میری بیوی میری زوجیت  میں آ سکتی ہے ؟
انہوں نے کا ہر مسئلے کا حل دین مصطفی میں موجود ہے 
بادشاہ نے کہاں بتایا جائے کیا حل ہے 
دربار میں بیٹھے  تمام لوگ سن  رہے تھے 
علمائے کرام نے کہا اگرآپ دوبارہ اپنی  بیوی کو اپنے زوجیت  میں لینا چاہتے ہیں تو 
اپنے خاندان میں اپنے دوستوں میں ایک ایسا شخص تلاش کریں جس پر آپ کو سو فیصد  یقین ہو جو کل اپنی بات  سے مکرے نہ 
بادشاہ نے کہا بہت ہیں 
علمائے کرام نے کہا 
آپ کی بیوی کا نکاح آپ کے اس دوست سے کر دیا جائے گا 
کچھ عرصہ وہ اس کی زوجیت میں رہے گی 
پھر اس کے بعد وہ طلاق دے دے گا 
پھر وہ اپنی عدت پوری کرے گی اور اس کے بعد پھر آپ اس سے رجو (نکاح )کر سکتے ہیں 
یہ سنتے ہی بادشاہ کا سر کا پسینہ  پاؤں سے نکل گیا 
اس نے کہا کیا یہ نبی پاک کی شریعت ہے ؟
علماء نے کہا جی ہاں بادشاہ 
بادشاہ نے کہا دین اسلام میں  تو عزتوں کا تحفظ ہے 
عزتوں کی پامالی کا نام دین  نہیں ہے 
میری غیرت گوارہ نہیں کرتی میری بیوی کسی اور کے نکاح میں رہے 
بادشاہ نے کہا دین فطرت ہے جرم چھوٹا ہے میرا سزا بہت بڑی ہے 
بادشاہ ان کی باتیں سن کر بہت پریشان ہوا 
بادشاہ نے وزیر سے کہا ان کے علاوہ کوئی اور عالم دین نہیں ہے 
وزیر نے کہا نہیں بادشاہ یہ چار فرقوں کے سب سے معتبر علماء کرام 
میں ڈھونڈ کر لایا ہوں  باقی سب  ان سے چھوٹے مولوی ہیں 
بادشاہ کے دربار میں بیٹھا ایکہ  آدمی بولا 
بادشاہ سلامت اگر مجھے بولنے کی اجازت دی جائے تو میں بات کرنا چاہتا ہوں آپ کا وزیر جھوٹ بول رہا ہے 
بادشاہ نے اس کے بات سن کر کہا کھڑے ہو کر جو بھی بات کرنی ہے کرو 
اس نے کہا بادشاہ سلامت فقہ پانچ ہے اور آپ کا وزیر چار فقہ کی  علماء کو لے کے آیا ہے  
اس نے کہا کہ چار فقوں کی نمائندگی ہے پانچویں فقہ کے عالم دین کو نہیں بلایا گیا
بادشاہ کو تھوڑی سی امید پیدا ہوئی ہے اور اس نے کہا پانچویں فقہ بھی ہے ؟
اس نے کہا جی ہاں بادشاہ 
فقہ حنفی فقہ مالکی فقہ شافعی فقہ احمد بن حنبل کہ علماء تو موجود تھے آپ کے وزیر نے فقہ۔جعفری کے عالم دین کو  نہیں بلایا 
بادشاہ نے اپنے وزیر خاص سے کہا تم نے فقہ جعفریہ کے عالم دین کو کیوں نہیں بلایا ؟
وزیر نے جواب دیا بادشاہ سلامت میں جانتا ہوں فقہ جعفریہ پانچ فقہ ہے 
پر ہمارے ملک میں فقہ جعفریہ کا کوئی عالم دین ہی نہیں ہے 
بادشاہ اس بندے سے مخاطب ہو کر کہا تم بتاؤ اس وقت فقہ جعفریہ کا علم دین کہاں مل سکتا ہے 
اس بندے نے کہا 
فقہ جعفریہ کا مرکز نجف اشرف عراق 
بادشاہ نے اس آدمی سے کہا جو چاہے لے کر نجف جاؤ اور پانچویں  فقہ جعفریہ کا علم دین لے کر آؤ 
ہو سکتا ہے میرے مسئلے کا کوئی حل نکل آئے 
وہ بندا جب نجف پہنچا 
جو اس وقت شیخ نصیرالدین طوسی 
بچوں کو درس  دے رہے تھے 
ایرانی قاصد نے 
شیخ نصیرالدین طوسی کو سلام کیا اور اس کو سب ماجرہ سنایا 
ہمارے بادشاہ نے ایسے بیوی غصے میں طلاق دی اور چار فقہ کے علماء نے فیصلہ سنایا ہے 
ہمارا بادشاہ ہمارا پورا ملک پریشان ہے 
پانچوں فقہ آپ کی  آپ ہماری رہنمائی کریں
شیخ نصیر الدین طوسی  رحمتہ اللہ علیہ 
نے فرمایایہ فقہ میری  نہیں ہے یہ فقہ جعفر صادق کی ہے 
اس نے کہا آپ کے فقہ کا جو بڑا عالم دین ہے  وہ آپ  بھیج دیں جو آپ کی فقہ کی ترجمانی  کرے 
شیخ نصیرالدین طوسی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے تمام شاگردوں کو دیکھا اور ان کے نظر علامہ حلی پر آکر رک گئی 
تاریخ میں لکھا گیا ہے کہ علامہ حلی کی عمر بہت کم تھے 
یہاں تک کہ ان کے داڑھی بھی نہیں آئی تھی 
شیخ نصیرالدین طوسی 
نے علامہ حلی کا اپنی طرف بلایا 
اور کہا آپ نے ساری  بات تو سن لی ہے 
میرا دل کرتا ہے کہ تم ایران  جاکر فقہ جعفریہ کی ترجمانی کرو 
ایرانی قاصد علامہ حلی کو  لیکر ایران بادشاہ کے دربار میں آیا 
 دربار میں اعلان ہوا 
پانچویں فقہ جعفریہ کا عالم دین بادشاہ کے دربار میں حاضر ہو رہے ہیں 
سب انتظار کر رہے تھے 
 دربار سجایا گیا 
قاصد دربار میں داخل  اور دروازے کے ساتھ اپنے جوتے اتار دیا 
سب کے جوتے وہاں پڑے ہواے  تھے 

علامہ حلی نے جوتے اتارے اور اپنی بغل میں دبا دیے 
بادشاہ نے قاصد کی طرف دیکھا اور کہایہ  نجف سے آیا ہے ؟
ور یہ عالم دین فقہ جعفری کی ترجمانی کرے گا 
سب دیکھ کر ہنسنے لگے چھوٹا بچہ ترجمانی کرے گا ؟
قاصد نے کہا جی ہاں بادشاہ 
پھر ان کو  پانچویں کرسی دی گئی چار کرسی پر پہلے عالم دین چار فرقوں کے بیٹھے ہوئے تھے 
علامہ حلی پانچویں کرسی پر بیٹھے اور جوتے اپنی کرسی کے نیچے  رکھ دیے 
بادشاہ نے علامہ حلی سے کہا آپ کا استاد کون ہے 
انھوں نے کہا  شیخ نصیرالدین طوسی رحمۃ اللہ علیہ 
بادشاہ نے کہا آپ کو استاد نے دینی تعلیم کے علاوہ دنیاوی تعلیم نہیں دی ؟
علامہ حلی مسکرائے اور کہا آپ جوتوں کی  بات کر رہے ہیں ؟
کہ میں جوتے ساتھ لے کے دربار میں آگیا اور اپنی کرسی کے نیچے رکھ دیے ؟
مجھے دروازے پر اتارنے چاہیے تھے؟
بادشاہ نے کہا ہاں  بالکل صحیح بات ہے 
علامہ حلی نے کہا مجھے پتا ہے سب کی جوتے وہاں اترے ہوئے تھے مجھے بھی جوتے دروازے کے ساتھ اتارنا چاہیے تھے 
پر میں ایک مسافر آدمی ہوں کیا پتا آپ کے دربار سے میرے جوتے چوری ہو  جاتے میرے پاس اور پیسے بھی نہیں تھے 
کہ میں جوتے خرید سکوں تو اس لیے میں نے اپنے جوتے اپنے ساتھ لے لئے 
بادشاہ کو یہ بات سن کر بہت پریشانی ہوئی کہ میرے دربار میں چوری ہو سکتی ہے ؟
علامہ حلی نے کہا بے شک آپ کے دربار میں جوتی چوری ہو سکتی ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے چوری کر لئے  تھے 
چور ہر جگہ ہوتے ہیں 

چاروں فقہ کے علماء کرام  بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا استغفراللہ 
علامہ حلی جھوٹ بول رہا ہے 
ہم نے تمام کتابیں پڑھی ہوئی ہیں ہمیں تو کسی کتاب میں نہیں ملا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے حضور کے دربار سے  چوری ہوگئے تھے 
علامہ حلی نے  جھوٹ بولا ہے اس کو سزا دی جائے 
بادشاہ نے کہا مجھے تو نہیں پتا 
نہ میرے پاس اتنا علم ہے کہ میں نے کہیں پڑھا ہوں 
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے چوری ہوئے تھے 
چاروں فقہ کے علماء نے کہا کہ ہم ضمانت  دیتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے جوتے چوری نہیں ہوئے تھے 
ہم نے ہر فرقے کے ہر کتاب پڑھی ہے کسی کتاب میں یہ روایت نہیں ملتی 
بادشاہ نے کہا تم کہتے حضور کے جوتے چوری ہوئے تھے اور یہ کہتے ہیں کہ آج تک کوئی روایتی نہیں ملی نہ کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ جوتے چوری ہوا 
علامہ حلی نے کہا کہ چور بھی کبھی چوری مانتا  ہے ؟
علامہ حلی نے کہا میں چور کو بھی جانتا ہوں چور کے باپ کو بھی جانتا ہوں جس میں جوتا چوری کیا تھا 
سب لوگ دھنگ رہ گئے 

انہوں نے پوچھا بتاؤ کون تھے وہ ؟

علامہ حلی نے کہا ابوحنیفہ تھے وہ 

فقہ حنفی کے عالم دین کھڑے ہوئے 
اور کہا استغفراللہ 
ابوحنیفہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیدا ہی  نہیں ہوا تھا 
ہمارا امام تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ستر سال بعد  پیدا ہوئے 

علامہ حلی نے کہا ہوسکتا ہے میں بھول گیا ہوں 

علامہ حلی نے پھر کہا وہ امام شافی تھے  جس نے جوتے چوری کیے 
فقہ شافی  کے  عالم دین کھڑے ہوئے 
اور کہا  امام شافی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے 82  سال بعد پیدا ہوئے  وہ بھی تب نہیں تھے 

علامہ حلی نے کہا میں بھولتا ہوں 
مجھے لگتا ہے امام مالک نے  جوتا چوری کیا تھا 
فقہ مالکی کا علم دین کھڑا ہوا 
اور کہا بادشاہ سلامت یہ  جھوٹ بولتا ہے 
امام مالک تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے 120 سال بعد پیدا ہوئے 
علامہ حلی جھوٹ بول رہا ہے 

علامہ حلی کہتے ہیں پھر  ایک ہی رہ گیا مجھے لگتا ہے پھر
 احمد بن حنبل ہوگا 
احمد بن حنبل تھے  جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے چوری گئے تھے 
فقہ احمد بن حنبل کے عالم دین اٹھے  
اور کہا احمد بن حنبل تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے ڈیڑھ سو سال بعد پیدا ہوئے انہوں نے کیسے جوتے چوری کر لی ہے ؟

بادشاہ کو یہ سن کر بہت غصہ آیا 
اور کہا میں نے اپنا مسئلہ حل کرنے کے لئے بلایا تھا اور تم لوگ اپنا مسئلہ لے کر بیٹھ گئے ؟

بادشاہ نے کہا حلی تم کون ہو ؟
تم تو چھوٹے بچے ہو اور وہ عالم دین اتنی بڑی عمر کے لوگ ہیں 
اور۔ تم ان کے سامنے ان کے اماموں کی توہین کر رہے ہو 
۔
بادشاہ نے کہا ان کو چھوڑو میرا مسئلہ کا حل بتاؤ جس کے لیے میں نے بلوایا تھا 
علامہ حلی نے کہا کون سا مسئلہ ؟

بادشاہ نے کہا طلاق والا مسئلہ جو میں  نے اپنی بیوی کو غصے میں دی 
علامہ حلی نے کہا ویسے میں نے آپ کو بتا تو دیا ہے لیکن آپ کو سمجھ نہیں آئی 
بادشاہ نے کہا تم  نے کیا بتایا ہے؟

علامہ حلی نے کہا تم دین محمدی اور شریعت ان سے لے رہے ہو ان سے مسئلے پوچھ رہے ہو 

جن میں سے کسی ایک کا بھی امام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں موجود ہی نہیں تھا پیدا ہی نہیں  ہوا تھا 
کوئی ستر سال کوئی اسی سال کوئی 120سال کو ڈیڑھ سال بعد پیدا ہوا ہیں 
ان کو کیا پتا طلاق کیسے ہوتی ہے نکاح کیسے ہوتا ہے ؟
حلال کیا حرام کیا ہے ان کو کیا پتا جائز ہے ناجائز کیا ہے ؟

بادشاہ سنتے ہی کھڑے ہوگئے جیسے کسی کو کانٹ لگ جاتا ہے 
تو پہلے علامہ حلی کو بچہ کہہ رہے تھے 
وہ بادشاہ  اب علامہ حلی کو علامہ صاحب کہا کر بلانے لگا 

اور بادشاہ علامہ حلی  کے پاس آئے اور ماتھا چوم کر کہا جو بات مولوی نے مناظرہ  کرکے نہیں مانتی وہ تم نےجوتوں سے منوالیں 
دربار میں موجود سب لوگوں نے کہا جس فقہ کا بچہ اتنا سمجھ دار ہو ان کا عالم کتنے سمجھدار ہوں گے 
بادشاہ نے پھر علامہ حلی سے مخاطب ہو کر کہا تمہاری  کونسی فقہ ہے ؟
 کہا فقہ جعفریہ 
بادشاہ۔ نے کہا آپ کے فقہ کے بانی 
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنے سال بعد پیدا ہوئے ؟
علامہ حلی نے کہا ہے ان کے اماموں کے تاریخ پیدائش میں نے بتائی 
ان سے کہوں میرے امام کی تاریخ بتائیں !
سب کے سر شرم سے جھک گئے 
علامہ حلی نے کہا میرا امام وہ ہے 
جس نے آنکھوں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں میں کھلی 
میرا تو امام  وہ ہے جس کو گھوٹی نبی نے اپنی زبان سے دی
میرا امام وہ ہے جو کھیلا نبی کے ہاتھوں میں ہے 
میرا وہ ہے جو پیدا ہی کعبے میں ہوا 
۔
بادشاہ نے دوسرے مولوی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کیا یہ ٹھیک کہ رہا ہے ؟
مولویوں نے  آگے سے کہاں
( آہو ) ٹھیک کہ رہا ہے 
بادشاہ نے کہا واقع ہے اس کے امام کو گھوٹی 
حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے دی ؟
سب نے کہا جی ہاں 
بادشاہ کا اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اس کے امام نے جو دین لیا وہ  سیدھا  محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے لیا 
 سب نے کہا جی ہاں 
بادشاہ علامہ حلی سے پھر مخاطب اور کہا 
جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان چوس چوس کر دین حاصل کیا ان کی فقہ میں کیا غصے میں طلاق ہو جاتی ہے ؟
علامہ حلی نے کہا نہیں 
فقہ جعفر صادق میں غصے میں دی جانے والی طلاق طلاق نہیں ہوتی 
صرف کہہ دینے سے طلاق نہیں ہوتی 
ساتھ کھڑے دوسرے فقہ کے علما بولے 
آپ دلیل سے جواب دیں 
تمام مولوی پریشان ہوگئے اور بادشاہ کی جان میں جان آ گئی 
علامہ حلی نے کہا کہ چار مولوی ہیں چار دلیل دیتا ہوں 
بادشاہ نے کہا تم ایک دلیل دو  میرا کام ہو جائے گا 
علامہ حلی نے کہا بادشاہ سلامت جو شرطیں دین محمدی میں نکاح کے وقت ہیں وہی شرطیں دین محمدی میں طلاق کے وقت بھی ہیں

غصے میں طلاق نہیں ہوتی 

اس کی پہلی دلیل  
جیسے غصے میں نکاح نہیں ہوتا ویسے غصے میں طلاق نہیں ہوتی
۔
 دوسری دلیل 
جیسے نکاح بغیر عربی زبان کے نہیں ہوتا   ویسے  طلاق بھی عربی زبان کے بغیر نہیں ہوتی 
مطلب فارسی اردو پنجابی سرائیکی پشتو انگلش زبان میں طلاق نہیں ہوتی 

تیسری دلیل 
جیسے نکاح کے وقت دو عادل گواہ کا ہونا ضروری ہے ویسے ہی طلاق  کے وقت بھی دو عادل گواہوں کا ہونا ضروری ہے 

بادشاہ سے کہا جب طلاق دے رہے تھے تو دو گواہ تھے ؟
بادشاہ نے کہا اگر دو گواہ ہوتے ہمیں چھڑوا نہ لیتے  لڑائی کرنے سے 

چوتھی دلیل 
علامہ حلی نے کہاپوچھو ان مولویوں سے کیا نکاح نکاح نکاح 
کہنے سے نکاح ہوجاتا ہے ؟

سب نے کہا نہیں 

علامہ حلی نے کہا جیسے نکاح نکاح نکاح کہنے سے نکاح نہیں ہوتا ویسا ہی طلاق طلاق طلاق کہنے سے طلاق نہیں ہوتی 

سب چپ ہوگئے 
علامہ حلی نے کہا 
بادشاہ سلامت تمہارا نکاح باقی ہے 
دین اسلام عزتوں کے تحفظ کے لئے ہے  عزتوں کی نیلامی کے لئے نہیں 

بادشاہ اٹھا  اور علامہ حلی  کے ہاتھ چومنے لگا 
اور کہا علامہ صاحب اگر آج آپ نہ ہوتے تو میں ہلاک ہو گیا ہوتا 
علامہ حلی مسکرا کر کہنے لگے ہیں 
بڑے بڑے علی سےبھی کہتے رہے اگر آج تو نہ ہوتا تو ہم ہلاک  ہو جاتے 
۔
بادشاہ علامہ حلی  کے قدموں میں بیٹھ گیا 
اور کہا تم نے آج میری عزت بچائی ہے 
ملک ایران کی خزانوں کی  اتنی قیمت نہیں جتنی قیمتی میری عزت ہے 
حلی دل کر رہے ہیں میں بادشاہی تاج تمہارے سر پر رکھ دو اور تمہارے قدموں میں بیٹھ جاؤ 
عزت میری بہت قیمتی تھی جو تم نے بچالی
علامہ حلی نے کہا 
اقتدار نہ ہمارے اماموں کو پسند تھا  نہ ہمیں  پسند ہے 
ہماری ڈپٹی صرف تبلیغ  کرنا ہے  جو میں نے کی ہے 
بادشاہ سلامت اب مجھے اجازت دے میں جاتا ہوں 
باشاہ نے کہا اسے نہ حلی ایسے نہیں جاؤ 
اپنا کلمہ پڑھا کے جاؤ 
علامہ نے کہا کونسا کلمہ ؟
بادشاہ نے کہا جو تم پڑھتے ہو 
علامہ حلی نے کہا 
ہم تو لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ 
کےبعد 
علی ان ولی اللہ وصی رسول اللہ خلیفا تو بلافصل 
پرھتے۔ہیں
بادشاہ نے کہا میں نے بھی یہ کلمہ پڑھنا ہے 
علامہ حلی نے کہا۔تم نے یہ کلمہ کیوں پڑھنا ہے ؟
بادشاہ نے کہا میں بھی اس فرقہ میں آنا چاہتا ہوں جہاں عزتوں کا تحفظ ہو 
بادشاہ نے کہا  صرف میں ہی یہ کلمہ نہیں پڑھوں گا یہ سب ایرانی  کلمہ پڑھیں گے 
علامہ حلی نے کہا یہ کیوں پڑھیں گے ؟
بادشاہ کا یہ بھی سب عزت والے ہیں 
تب بادشاہ کے دربار میں سب نے فقہ جعفریہ میں شمولیت اختیار کی

Comments

Popular posts from this blog

قد رآی عینُ الله و ضرب یدُ الله

کیا عمران خان کی ماں قادیانی تھی ۔۔۔؟؟؟

اگر فاطمہ چوری کرتی تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جاتا؟ کیا یہ ممکن ہے؟ ("Agar (Meri Beti) Fatima (RaziAllahu Anha) Ne Bhi Chori Ki Hoti Tou Mai Uska Bhi Haath Kaat Leta”.)