تم سورۃ الاحزاب کی آیات کتنی شمار کرتے ہو؟


بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

سورۃ احزاب

زرّ، ابی بن کعب سے روایت کرتے ہیں:
مجھ سے ابی بن کعب نے کہا: تم سورۃ الاحزاب کی آیات کتنی شمار کرتے ہو؟ کہا: ۷۳ آیات۔ کہا: مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ساتھ ابی بن کعب قسم کھاتا ہے کہ یہ سورہ سورۃ البقرۃ کے برابر یا اس سے زیادہ طویل ہے۔ ہم نے اس سورہ میں آیۂ رجم کی تلاوت کی ہے: الشیخ و الشیخۃ اذا زنیا فارجموھما البتۃ نکالا من اللہ واللہ عزیز حکیم ۔
اس روایت کو نسائی، حاکم، طبرانی، ابن حبان اور ابن مردویہ نے بیان کیا ہے۔
زمخشری اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
ابی نے اس سے قرآن کا وہ حصہ مراد لیا ہے جو منسوخ ہو گیا ہے۔
پھر آگے لکھتے ہیں:
نقل کیا جاتا ہے کہ اس سورت کا زائد حصہ حضرت عائشہؓ کے گھر میں ایک صحیفہ میں تھا جو بکری کھا گئی۔ یہ بات ملحد اور رافضی لوگوں کی ساختہ و بافتہ ہے۔
فاضل محشی نے اس کے ذیل میں لکھا ہے:
قلت: بل راویھا ثقۃ غیر متہم بلکہ اس روایت کے راوی ثقہ ہیں۔ ان پر کوئی الزام بھی عائد نہیں ہے۔
آخر میں لکھتے ہیں:
بل ھذا مما نسخت تلاوتہ و بقی حکمہ و اکل الدواجن وقع بعد النسخ ۔ ( الکشاف ذیل آیہ)
بلکہ یہ اس حصہ کی بات ہے جس کی تلاوت نسخ ہو گئی اور حکم باقی رہ گیا۔ بکری کے کھانے کا واقعہ نسخ کے بعد پیش آیا۔
واضح رہے شیعہ امامیہ کے نزدیک قرآن تواتر سے ثابت ہوتا ہے، اس قسم کی روایت آحاد سے قرآن ثابت نہیں ہوتا کہ نسخ کی نوبت آئے۔ جو لوگ ایسی روایات سے قرآن ثابت ہونا قرار دیتے ہیں وہ نسخ تلاوت کے ذریعے قرآنیت سے ہاتھ اٹھاتے ہیں جب کہ نسخ تلاوت ایک مفروضہ ہے۔ ایک ثابت متواتر اجماعی موقف نہیں ہے جس سے قرآن منسوخ ہو جائے۔ لہٰذا ان روایات کے مضمون کو قرآن ماننے کے لیے تواتر درکار ہے۔ اگر وہ اسے قرآن مانتے ہیں تو نسخ کے لیے تواتر درکار ہے ورنہ جسے ان لوگوں نے قرآن تسلیم کیا ہے اس کی تحریف لازم آتی ہے۔ فافہم ذلک 

Comments

Popular posts from this blog

قد رآی عینُ الله و ضرب یدُ الله

کیا عمران خان کی ماں قادیانی تھی ۔۔۔؟؟؟

اگر فاطمہ چوری کرتی تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جاتا؟ کیا یہ ممکن ہے؟ ("Agar (Meri Beti) Fatima (RaziAllahu Anha) Ne Bhi Chori Ki Hoti Tou Mai Uska Bhi Haath Kaat Leta”.)