ایلی کاٹ کی عزا داری
ایلی کاٹ کی عزا داری
حیدرآباد میں گزشتہ تینتیس سال سے محرم کی آٹھ تار یخ کو ایلی کاٹ کے نام سے بھی ایک ماتمی جلوس نکا ا ل
جاتا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایلی کاٹ کون تھا اور اس کی کہانی کیا ہےا۔
حیدرآباد کے چند عمر رسید لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ ایلی کاٹ ایک ’گورا’ تھا اور وہ ہر سال محرم الحرام میں سیاہ
کپڑے ز یب تن کئے عزا داری میں پیش پیش نظر آتا تھا۔
بیلے ڈانس کے دلدادہ ایلی کاٹ اپنے ڈرائیور کی ز بانی واقع کر بلا سن کر ایسے مسلمان ہوئے کہ انہوں نے گھر بار
بیوی بچے سب کچھ چھوڑ دیا اور مرتے دم تک ’غم حسین’ کو سینے سے لگائے رکھا۔
چارلی ایلی کاٹ عرف علی گوھر کا جنم کہاں ہوا اس کا کوئی ر یکارڈ موجود نہیں ہے تاہم انہیں ایلی کاٹ سے
علی گوہر بنے آج تر یسٹھ سال ہوچکے ہیں۔ ان کی والدہ لیڈی ڈفرن ہسپتال حیدرآباد میں ڈاکٹر تھیں اور والد
فار یسٹ آفیسر تھے۔ جو کہ ہمیشہ شکار میں مصروف رہتے تھے۔چارلی کی ماں کا تعلق کلکتہ سے تھا اور وہ
بھی انگر یز تھیں۔
چارلی کی والدہ حیدرآباد کے ہر ماتمی جلوس پر نذر و نیاز کرتیں تھیں۔ چارلی اپنی والدہ سے بہت متاثر تھے۔ وہ خود
س سے ’مول علی اور
ُ
محکمہ ایکسائز میں انسپیکٹر تھے۔ عبدالغفور چانڈیو جو ان کا ڈرائیور تھا۔ ا امام حسین’ کی
شہادت اور ان کی زندگی کے بارے میں سن کر ایلی کاٹ کو بھی حسینی قافلہ میں شامل ہونے کا شوق ہوا۔
عبدالغفور کے بیٹے غلام قادرچانڈیو بتاتے ہیں کے ایلی کاٹ نے ان کے
والد عبدالغفور سے کہا کہ وہ بھی ماتمی جلوس نکالنا چاہتے ہیں۔ لیکن
عبدالغفور چانڈیوگر یز کرتے رہے اور کہتے رہے کہ اس کے لئے بڑی قر بانی
دینی پڑتی ہے۔ بقول غلام قادر کے چارلی اپنے فیصلہ پر اٹل رہے۔ بالآخر
عبدالغفور نے چارلی ایلی کاٹ کی سر پرستی میں ماتمی جلوس نکالنے کے
لئے حامی بھر لی۔ جس پر چارلی کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔
حیدرآباد کے پکے قلعہ میں چانڈیوں کی امام بارگاہ سے پہلی بار ذوالجناح
کا جلوس نکالنے کی تیاری کی گئی- یکم محرم الحرام کو جب یہ جلوس
روانگی کے لئے تیار تھا تو عجیب اتفاق ہوا کہ چارلی کی والدہ انتقال کر
گئیں۔ غلام قادر بتاتے ہیں کے بابا عبدالغفور نے ایلی کاٹ کو یاد دلیا کہ
اسے پہلے ہی بتادیا گیا تھا کہ اس کام میں بڑی قر بانی دینی پڑتی ہے جس سے ایلی کاٹ کا ایماں اور پختہ
چارلی ایلی کاٹ بیلےڈانس گروپ
کے ہمراہ
ہوگیا۔ ایلی کاٹ نے صبح کو والدہ کی حیدرآباد کے شمال میں واقع گورا قبرستان میں تدفین کی اور شام کو اپنے
غم کو بھول کر اور سیاہ کپڑے پہن کر ننگے پاؤں ماتم میں شامل ہوگیا۔
غلام قادر جو ایلی کاٹ کے ساتھی رہے ہیں بتاتے ہیں کے ایلی کاٹ نے اپنی انگر یز بیوی کو بتایا کہ وہ مومن ہونا
چاہتے ہیں۔ اس لئے ان کے سامنے دو راستے ہیں، پہلا یہ کہ وہ بھی مسلمان ہو جائے اور دوسرا یہ کہ واپس
انگلینڈ چلی جائیں۔
ان کی بیوی نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور وہ دو بیٹیوں سمیت انگلینڈ چلی گئیں۔ جہاں سے وہ کبھی بھی چارلی
کے لئے لوٹ کر نہیں آئیں۔
چارلی اب علی گوھر بن چکے تھے۔ قیام پاکستان سے کچھ عرصہ قبل وہ اجمیر شر یف میں خواجہ معین الدین
چشتی کی درگاہ پر چلےگئے جہاں انہوں نے چھ ماہ تک ملنگوں والی زندگی گزاری۔ چھ ماہ بعد حیدرآباد لوٹ
آئے اور بقیہ تمام زندگی اپنے ڈرائیور عبدالغفور کے پاس رہ گزار دی۔
چار ر بیع الول بمطابق سترہ اپر یل انیس سو اکہتر کو چارلی عرف ایلی کاٹ انتقال کر گئے اور انہیں اسی ماتمی
گنبد میں دفن کر دیا گیا جہاں وہ رہتے تھے۔
Comments
Post a Comment