The Story of COW


بسم الله الرحمن الرحيم (سورہ بقرہ)
۶۷۔ وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُواْ بَقَرَةً قَالُواْ أَتَتَّخِذُنَا هُزُواً قَالَ أَعُوذُ بِاللّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ
۶۸۔ قَالُواْ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لّنَا مَا هِيَ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لاَّ فَارِضٌ وَلاَ بِكْرٌ عَوَانٌ بَيْنَ ذَلِكَ فَافْعَلُواْ مَا تُؤْمَرونَ
۶۹۔ قَالُواْ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا لَوْنُهَا قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَاء فَاقِـعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النَّاظِرِينَ
۷۰۔ قَالُواْ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِيَ إِنَّ البَقَرَ تَشَابَهَ عَلَيْنَا وَإِنَّآ إِن شَاء اللَّهُ لَمُهْتَدُونَ
۷۱۔ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لاَّ ذَلُولٌ تُثِيرُ الأَرْضَ وَلاَ تَسْقِي الْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌ لاَّ شِيَةَ فِيهَا قَالُواْ الآنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُواْ يَفْعَلُونَ
۷۲۔ وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْساً فَادَّارَأْتُمْ فِيهَا وَاللّهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ
۷۳۔ فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا كَذَلِكَ يُحْيِي اللّهُ الْمَوْتَى وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
۷۴۔ ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الأَنْهَارُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاء وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللّهِ وَمَا اللّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
ترجمہ
۶۷۔ اور ( اس وقت کو یاد کرو ) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو ( اور اس کے بدن کا ایک ٹکڑا اس مقتول کے ساتھ لگاؤ جس کا قاتل نہیں پہچانا جارہا تاکہ وہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کا تعارف کرائے اور یہ شور و غو غا ختم ہو ) وہ کہنے لگے تم ہم سے مذاق کرتے ہو ۔ ( موسیٰ نے کہا میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں میں سے ہوجاؤ ( اور کسی سے مذاق و استہزا کروں )
۶۸۔ وہ کہنے لگے ( تو پھر ) اپنے خدا سے یہ کہو کہ ہمیں واضح کرے کہ یہ کس قسم کی گائے ہونا چاہیے ۔ اس نے کہا : خدا فرماتا ہے کہ گائے نہ بوڑھی ہو کہ جو کام سے رہ گئی ہو اور نہ بالکل جوان ہو بلکہ ان کے درمیان ہو جو کچھ تمہیں حکم دیا گیا ہے ( جتنی جلدی ہوسکے ) اسے انجام دو ۔
۶۹۔ وہ کہنے لگے ! اپنے خدا سے کہو ہمارے لئے واضح کرے کہ اس کا رنگ کیسا ہو ۔ وہ کہنے لگا :خدا فرماتا ہے کہ وی زرد رنگ کی ہو ، ایسے رنگ کی جو دیکھنے والوں کو اچھا لگے ۔
۷۰۔ وہ کہنے لگے اپنے خدا سے کہیئے وہ واضح کرے کہ وہ کس قسم کی گائے ہو کیونکہ یہ گائے تو ہمارئے لئے مبہم ہوگئی ہے اور اگر خدا نے چاہا تو ہم ہدایت پالیں گے ۔
۷۱۔ اس نے کہا : خدا فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ تو اتنی سدھائی ہوئی ہوکہ زمین جوتے اور نہ ہی کھیتی سینچے ، بھلی چنگی اور ایک رنگ کی ہو جس میں کوئی دھبہ تک نہ ہو ۔ وہ کہنے لگے اب ( جاکے ) ٹھیک ٹھیک بیان کیا اور پھر انہون نے ( ایسی گائے تلاش کی ) اور اسے ذبح کیا حالانکہ وہ مائل نہ تھے کہ اس کام کو انجام دیں ۔
۷۲ ۔ اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا ، پھر ( اس کے قاتل کے بارے میں ) تم میں پھوٹ پڑگئی اور خدا نے ( اس حکم کے ذریعہ جو مندرجہ بالا آیات میں آیا ہے ) اسے آشکار کردیا جسے تم چھپا رہے تھے ۔
۷۳۔ پھر ہم نے کہا کہ اس گائے کا ایک ٹکرا مقتول کے ساتھ لگا دو ( تاکہ وہ زندہ ہوکر قاتل کی نشاندہی کردے ) ، اس طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تمہیں اپنی آیات دکھاتا ہے کہ شاید تم سمجھ سکو ۔
۷۴۔ پھر اس واقعے کے بعد تمہارے دل پتھر کی طرح سخت ہوگئے بلکہ اس سے بھی زیادہ کیونکہ کچھ پتھر تو وہ ہیں جنسے نہریں جاری ہوتی ہیں اور بعض وہ ہیں جن میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں اور ان میں سے پانی کے قطرات ٹپکتے ہیں اور ان میں سے بعض خوف خدا سے ( پہاڑ کی بلندی سے ) نیچے گر جاتے ہیں ( لیکن تمہارے د ل نہ خوف ِ خدا سے دھڑکتے ہیں اور نہ ہی وہ علم و دانش اور انسانی احساسات کو سر چشمہ ہیں ) اور خدا تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

قد رآی عینُ الله و ضرب یدُ الله

کیا عمران خان کی ماں قادیانی تھی ۔۔۔؟؟؟

اگر فاطمہ چوری کرتی تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جاتا؟ کیا یہ ممکن ہے؟ ("Agar (Meri Beti) Fatima (RaziAllahu Anha) Ne Bhi Chori Ki Hoti Tou Mai Uska Bhi Haath Kaat Leta”.)