❤️ 25 , صفر واقعہ قرطاس : ❤️ دنیا بھر میں ایک اصول ھے : 💓 کہ اگر کسی بھی گھر ، قوم یا قبیلے کے سربراہ کا آخری وقت ھو ۔ تو اسکے آخری الفاظ و اقوال کو بہت اھمیت دی جاتی ھے ۔ اور ان اقوال پر عمل کرنا اپنے لیئے باعث فخر و افتخار سمجھا جاتا ھے ۔ دین و شریعت اور اسلام میں ان الفاظ کو وصیت کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ھے ۔ ❤️ اسی طرح اپنے وقت آخر پیغمبر اکرم (ص) نے بھی اپنے بعد مسلمانوں کو گمراھی سے محفوظ رکھنے کا نسخہ لکھنے کیلیئے اپنے ھی صحابہ کرام سے قلم دوات مانگی ۔ جسے مکتب تسنن کی بخاری شریف جیسی معتبر ترین کتاب کے مطابق حضرت عمر نے یہ کہہ کر رد کر دیا ۔ ""” کہ یہ شخص (پیغمبر اکرم ص) بیماری کیوجہ سے (معازاللہ) ھذیان کہہ رہا ھے ۔“"" ❤️ یوں رسول اکرم (ص) امت کو گمراھی سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے اپنی وصیت نہ لکھ سکے ۔ اس پر وہاں موجود لوگوں میں اختلاف پیدا ھوگیا ۔ بعض نے کہا ، جناب عمر کی بات درست ھے ۔ اور بعض کو ارشاد نبی (ص) ھی درست لگا ۔ جب شور وغل بڑھا ۔ تو آپ (ص) بہت رنجیدہ ھوئے اور سبکو (اپنی محفل سے) چلے جانے کو کہا ۔ یہ اتنی بڑی جسارت ۔۔ اور اتنی بڑی گستاخیء...