اننبیاء علیھم السلام کے آثارسے طلبب برکت لعاب دہن ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحازم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ غزوہ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کل میں جھنڈا ایک ایسے شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول بھی اسے عزیز رکھتے ہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ وہ رات سب کی اس فکر میں گزر گئی کہ دیکھیں ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عَلم کسے عطا فرماتے ہیں۔ صبح ہوئی تو سب خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور اس امید کے ساتھ کہ عَلم انہیں کو ملے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! وہ تو آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بلا لاؤ۔ جب وہ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تھوک ان کی آنکھوں میں لگایا اور ان کے لیے دعا کی۔ اس دعا کی برکت سے ان کی...