Posts

Showing posts from September, 2019

حضرت علی علیہ السلام کا لقب ید اللہ، عین اللہ،

حضرت علی علیہ السلام کا لقب  ید اللہ، عین اللہ،  حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زبانی  ملاحظہ ہو۔ قد رآی عینُ الله و ضرب یدُ الله حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں حج کے موقع پر مولا علی۴ نے ایک شخص کو تھپڑ رسید کر دیا.. وہ شخص حضرت فاروق کے پاس آیا اور شکایت کی. حضرت ... نے کہا علی۴ کو بلاؤ. مولا علی۴ تشریف لائے .. سوال ہوا یا علی۴ آپ نے اسے مارا؟ مولا نے فرمایا: ہاں مارا.. سوال ہو کیوں؟؟ مولائے کائنات نے فرمایاا میں نے اسے حج میں لوگوں کی ناموس (دوران طواف کسی خاتون کو)  پہ بری نگاہ ڈالتے ہوئے دیکھا.. تو تھپڑ مارا.. حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے کہا دیکھ بھائی.. عین اللہ نے دیکھا.. ید اللہ نے مارا یہ واقعہ مندرجہ ذیل کتب میں درج ہے النهایه ابن اثیر، ج 3 ص 332 *** المصنف، عبد الرزاق الصنعانی، ج 10، ص 410 ***  کنز العمال، ج 5، ص 462 ***  تاریخ مدینه دمشق،ج 17، ص 142 *** جواهر المطالب، ج 1، ص 199 ***  جامع الاحادیث، ج 26، ص 29 ***  جامع معمر بن راشد، ج 1، ص 144 ***  لسان العرب، ج 13، ص 309 ***  [ ا...

ہم اہل بیت(ع) کی ولایت اور محبت

: ایک مرتبہ اہل سنت کے مشہور امام ابو حنیفہ چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔چونکہ اکثر لوگوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے ابو حنیفہ اکثر قرآن مجید کی آیات اور رسول اللہ(ص) کی احادیث کی عام اور رائج تفسیر و وضاحت کرتے رہتے تھے جس کی وجہ سے عوام الناس میں ان کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا ۔ جیسا کہ سارے مسلمان واقف ہیں کہ ابو حنیفہ ہمارے چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد تھے اور اس حقیقت کا خود انہوں نے بارہا اعتراف کیا ہے:’’ لولا سنتان لھلک نعمان‘‘۔ اگر2 برس امام جعفر صادق علیہ السلام کی شاگردی نہ کرتا تو میں ہلاک ہوجاتا اور میں جاہل کا جاہل رہ جاتا۔ المختصر یہ کہ ابوحنیفہ آئے تو امام علیہ السلام نے دریافت فرمایا: ابو حنیفہ میں نے سنا ہے کہ تم قرآن مجید کی اس آیت:’’ ثُمَّ لَتُسئَلُنَّ یومَئِذٍ عَنِ النَعیم‘‘۔(سورہ تکاثر:۸) کی تفسیر اس طرح کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ لوگوں سے قیامت کے دن ان تمام لذیذ غذاؤں  اور ٹھنڈے پانی کا حساب لے گا جو اس نے یہاں انہیں دے رکھی ہیں؟ ابو حنیفہ نے عرض کیا: جی حضور! ایسا ہی ہے۔اللہ قیامت کے دن بندوں سے ہر نعمت ک...

ایام عزا میں کالا لباس پہننا مستحب (باعثِ ثواب) ہے

ایام عزا میں کالا لباس پہننا مستحب (باعثِ ثواب) ہے ⭕کچھ اہلسنت آج کل شیعہ کتابوں میں موجود چند ضعیف روایات پیش کرتے ہیں اور پھر یہ کہتے ہیں کہ دیکھو کالا لباس پہننے کی ممانعت تو خود شیعوں کی کتابوں میں موجود ہے.  جو روایات نقل کیں جاتیں ہیں لبس السواد کی مکروہیت پر (یعنی کالے لباس کے پہننے پر) تو آئے ان کو نقل کرتے ہے اور ان کی علمی حیثیت کا تعین کیا جاتا ہے پہلی: امام صادق ع سے منقول روایت کہ یہ دوزخیوں کا لباس ہے (لا تصل فيها فانها لباس أهل النار.) جواب: یہ روایت شیخ صدوق نے مرسلا من لايحضره الفقيه جلد ١ ص ٢٥١ میں نقل کی ہے اور علل الشرائع میں مسند طریق سے نقل کی ملاحظہ ہو علل الشرائع جلد ٢ ص ٣٤٦ اور اس کی سند یوں ہے: - أبى رحمه الله قال: حدثنا محمد بن يحيى العطار عن محمد بن احمد عن سهل بن زياد عن محمد بن سليمان عن رجل عن ابى عبد الله (ع) واضح طور سے اس کی سند میں ارسال ہے کہ راوی جس نے امام صادق ع سے روایت نقل کی وہ غیر موسوم ہے۔ دیگر اس روایت کی سند میں سھل بن زیاد اور محمد بن سلیمان پر کلام ہے۔ علی کل حال اس روایت کی سند ضعیف ہے۔  دوسری: امام ع...

First Month of the Islamic Year is NOT Muharram

Image
The following narrations found in history from both Shia and Sunni sources seem to indicate that Rabi al-Awwal was the first month of the Islamic calendar as established by Prophet Muhammad (saww) and this was later changed to Muharram by Umar (la). Shia Sources: وقال ابن شهراشوب: ”قال الطبري ومجاهد في تاريخهما: جمع عمر بن الخطاب الناس يسألهم من أي يوم نكتب؟ فقال علي عليه السلام: من يوم هاجر رسول الله صلى الله عليه وآله وترك أهل الشرك. فكأنه أشار إلى أن لا تبتدعوا بدعة، وتؤرّخوا كما كانوا يكتبون في زمان رسول الله صلى الله عليه وآله، لأنه لمّا قَدِمَ النبي صلى الله عليه وآله المدينة في شهر ربيع الأول أمر بالتاريخ، فكانوا يؤرخون بالشهر والشهرين من مقدمه إلى أن تمّت له سنة. Ibn Shahr Ashoob says, "al-Tabari and Mujahid say in their books of History": "Umar bin Khattab gathered the people, he asked them from which date should we write the calendar (start of the calendar)? Imam Ali (as) said, "From the day the Prophet (saww) did Hijrah (migrated f...