آزادی سے پہلے برصغیر کے مسلمان معاشرے میں فرقہ وارانہ تشدد۔۔۔حمزہ ابراہیم
نوٹ: یہ ایک نقطہ نظر ہے جو باقاعدہ حوالوں سے مزیّن ہے۔ اس کا جوابی مضمون کوئی صاحب اسی تحقیقی انداز میں بھیجیں تو ادارہ اسے شائع کرے گا۔ پاکستان بننے کے بعد فرقہ وارانہ جرائم کے بارے میں بات کرنے میں ہماری قوم کو ایک شرم کا احساس ہوتا رہا ہے۔ ایک ایسا ملک جو برصغیر کے مسلمانوں کی مذہبی آزادی اور جانی و مالی تحفظ کو یقینی بنانے اور ہندوتوا کے فاشزم سے نجات پانے کیلئے بنایا گیا تھا، اس میں اس معاملے پر بات کرنا شرمندگی کا باعث تھا کہ اس ملک میں جغرافیائی طور پر بکھری ہوئی ایک مسلمان اقلیت کو اسی فاشزم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چنانچہ میڈیا نے خود پر ایک سنسر شپ نافذ کر لی اور ایسے واقعات میں متاثرین اور حملہ آوروں کی شناخت، اعداد و شمار، اور جرم کے اہداف کا ذکر چھپانا شروع کر دیا[1]۔ اس پر مستزاد یہ کہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی تقسیم ہند کے مخالفین کی طرف سے اس قتل و غارت کو دو قومی نظریئے کا نتیجہ کہا جانے لگا، حالانکہ یہ بات ایک طعنے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ دو قومی نظریئے کی بنیاد ہندوؤں سے نفرت نہ تھی اور نہ ہندو ...